انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ترقیاتی شراکت داروں اور اقوام متحدہ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں 3,000 سے زائد گلیشیائی جھیلیں ہیں، جن میں سے 33 انتہائی خطرناک ہیں جب کہ 70 لاکھ سے زائد افراد گلیشیائی جھیلوں کے ممکنہ پھٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سیلاب سمیت موسمیاتی آفات کے بڑھتے واقعات تشویشناک ہیں۔ پاکستان گلیشیئر پروٹیکشن اینڈ ریزیلینسی اسٹریٹیجی عوامی جائزے کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی کی فوری ضرورت ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں 2022ء کے تباہ کن سیلاب اور بڑھتی آلودگی خطرے سے بہت نقصان ہوا۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ قومی سطح پر موسمیاتی حکمت عملی کا فریم ورک موجود ہے مگر اس پر عملدرآمد بڑا چیلنج ہے۔