پاکستانی خبریں

غیر ضروری میسیجز کی انٹری بند

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد جمیل خان شہریوں کو غیر ضروری تشہیری میسج اور کالز موصول ہونے کے خلاف دائر درخواستوں پر پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کو شہریوں کو غیر ضروری میسیجز اور کالز کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں دوران سماعت فاضل جج نے قراردیا کہ ہو سکتا ہے سیلولر کمپنیاں اتنی بااثر ہوں کہ آپ کو کام نہ کرنے دیں، صبح غیر ضروری میسجز سے اپنے کام کا میسج نکالنا ہو تو آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے، ان سپیم ایس ایم ایس اور کالز پر کنٹرول ہونا چاہیے آئندہ کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔

آئندہ سماعت پر قانون پر عملدرآمد نہ ہوا توچیئرمین پی ٹی اے کو طلب کیا جائے گا، کیس کی سماعت شروع ہوئی توعدالتی حکم پر ڈائریکٹر کمیونی کیشن پی ٹی اے محمد شفیق عدالت میں پیش ہوئے، فاضل جج نے عدالت کو مطمئن نہ کرنے پر ڈائریکٹر کمیونی کیشن محمد شفیق کی سرزنش کی، فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ ٹینکی صاف کرنے والوں کے میسجز 10 نمبروں سے آتے ہیں،اس کا مطلب اس کے پاس 10 نمبر ہیں، نئے قوانین کے مطابق تو کوئی زیادہ سمیں رکھ نہیں سکتا، اس کا مطلب آپ تمام میسج پڑھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں کہ کیسے لوگوں کی بھرتیاں کی ہیں، عدالت آپ کو میکنزم نہیں بتائے گی یہ آپ کا کام ہے، غیر ضروری ایس ایم ایس موصول ہونے پر پی ٹی اے کو شکایت موصول ہو تو پی ٹی اے اس پر کارروائی کرے۔

Related Articles

Back to top button